Sat. Jun 6th, 2020

سوچ لاپتہ،شعور لاپتہ: شبیر بلوچ

1 min read


شبیر بلوچ
مرکزی انفارمیشن سیکرٹری بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی


سماجی جاندار انسان جسے عقل و شعور کی وجہ سے دیگر جانداروں پہ فوقیت حاصل ہے۔انسان دور قدیم سے دور جدید کے سفر میں مختلف مشکلات سے نبرد آزما ہو اس منزل پہ پہنچ چکا ہے جہاں دنیا سمٹ کر ایک گلوبل ولیج میں بدل چکی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟کیونکر ممکن ہوا؟تو اس کا آسان اور سادہ جواب یہ ہے کہ عقل کے استعمال سے جس نے اسے مثبت سوچ اور شعور سے لبریز کردیا اور یہی شعور اسکی فتوحات اور کامیابی کا زینہ ثابت ہوا۔
انسان نےاحساسات اور شعور کی مرہون منت سماج میں پنپنے والی سماجی برائیوں کا تجزئیہ کیا سوالات کئے اور انکے حل کے لئے موثر اقدامات اٹھائے۔
سماجی پسماندگی دو وجوہات کی بناء وقوع پذیر ہوتی ہیں ایک سماج میں بسنے والے افراد کی ظلم و جبر پر خاموشی اور دوسری وجہ عقل و بصیرت کا غلط استعمال۔عقل و بصیرت اسوقت غلط استعمال ہوگی جب اس کا استعمال کرنے والا حقیقی و معروضی حقائق کو نظر انداز کرکے موضوعی اور خیالی دنیا کی تشکیل کرنے لگ جائے۔
ایک انسانی سماج میں فرد کیوں خیالی دنیا تشکیل دینا چاہتا ہے تو اسکی خاص وجہ نظام تعلیم کی خامیاں ہوتی ہیں جو انسان کو جدیدت کے بجائے فرسودہ و خیالی دنیا کا اسیر بننے پہ مجبور کرتی ہیں اور دوسری اہم وجہ خوف جو طاقت کے استعمال کی وجہ سے اسی خیالی دنیا میں مگن رہنے کو حقیقی زندگی گردانتے ہیں۔
محرومی ذہنی ابتری کو جنم دیتا ہے یہ حقیقت ہے لیکن اس ذہنی ابتری کو دور کیسے کیا جائے تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ اپنی سوچ اور عمل میں انقلاب برپا کرنا ہوگی اور اس ذہنی ابتری کا قلع قمع کرکے ایک نئے سماج کی تشکیل پہ غور کرنا ہوگا۔
انسانی زندگی کے لئے سماج جامعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔اور اسی طرح اگر ہم بلوچ سماج میں پنپنے والی برائیوں پہ بات کریں تو ایک نئے علمی بحث و مباحثے کا نقطہ آغاز ہوسکتا ہے۔بلوچستان جہاں دو دہائیوں سے سوچ اور شعور طاقت کے نیچے دب چکے ہیں اور کہیں لاپتہ ہے۔ اگر یونہی بلوچ سماج میں سوچ اور شعور لاپتہ رہے اور انکی جگہ شعوری منافقت نافذ رہیں تو بلوچستان کے عوام کے لئے زندگی عذاب بن جائیں گی اور اس عذاب کو لانے والے وہ خاموش عناصر ہونگے جن کی سوچ اور شعور لاپتہ ہو کر منافقت کا عکس اوڑھتی نظر آرہی ہیں۔
‎تاریخ جدوجہد مشکلات ومصائب اور گٹھن کا دوسرا نام ہے جہاں قومیں ان حالات میں بہادری  سے  مختلف رکاوٹوں کا مقابلہ کرکے  سماجی حالات کو  تبدیل کرنے میں کوشاں رہتے ہے ان تبدیلیوں کا باقاعدہ اثر زیادہ تر نوجوان نسل پر حاوی ہوتا ہےاور وہ فرسودہ نظام کے خلاف علمی جدوجہد سے نئی خیالات کو جنم دیکر حاکم بالا کے نام نہاد منصوبوں کو چیلج کرنا شروع کردیتے ہیں جہاں سے نظریاتی سوچ نوجوان طبقے کو سوال کرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔
‎بلوچستان کی محرومی اور پسماندگی، بھوک و افلاس ،اور دیگر اہم مسائل کی وجہ تعلیمی سہولتوں کا فقدان ،تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر نعرے اور زبانی دعوے جو طالب علموں سمیت ہر طبقہ فکر کے لئے بے چینی کا باعث بن رہی ہیں ۔
‎وہ کونسے عوامل ہے کہ آج طالب علم سیاست سے جڑے لوگ لاپتہ ہورہے ہیں ۔
‎آخر کیوں سماجی پسماندگی کو مذید پروان چڑھایا جارہا ہے۔کیوں بلوچستان کی حکومت ماورائے عدالت گرفتاری پہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں؟کیوں ہمارے پڑھے لکھے دانشور حضرات طالب علموں کی گرفتاری پر خاموش ہے؟کیوں ایک طالب علم پر امن جدوجہد کی پاداش میں صعوبتیں برداشت کرتا ہے؟کیوں ان طالب علموں کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا؟حالانکہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے قوانین کسی بھی مجرم کو صفائی کا موقع فراہم کرتے ہیں لیکن عملی طور پر بلوچستان میں اسکا وجود ہی نہیں کیوں ؟
‎بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ورکنگ کمیٹی کے ممبر وہاب بلوچ شعوری نوجوان تھا جس کا شعور اسے اسکی پسماندگی پہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتا تھا اور اسی شعور نے اسے جدوجہد پر مجبور کیا لیکن آج وہ لاپتہ ہے اور اسکی گرفتاری کو پینتالیس دن گزر چکے ہیں لیکن وہ بنا کسی جرم کے سزا بھگت رہا ہے۔فیروز بلوچ چھ مہینے سے لاپتہ ہے لیکن نہ انہیں منظر عام پہ لایا جاتا ہے اور نہ ہی عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔
‎ماورائے عدالت گرفتاری دو دہائیوں سے جاری ہیں جس نے خوف کی فضا قائم کردیا ہے جس کی وجہ سے تعلیمی سیاسی سماجی معاشی اور ہر پہلوؤں سے بلوچستان شدید متاثر ہے۔
‎آج وہاب بلوچ، فیروز بلوچ، ماجد بلوچ اور دیگر لاپتہ طالب علموں کی گرفتاری دراصل چند طالب علموں کا لاپتہ ہونا نہیں بلکہ یہ سوچ اور شعور کا لاپتہ ہونا ہے اور اگر انسانی سماج میں بسنے والے انسانوں کا شعور لاپتہ ہوجائے تو کچھ نہیں بچتا کچھ بھی نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

NODARBAR Social

Copy link
Powered by Social Snap